آج ہم بات کریں گے آج کل کے نوجوانوں کی اور ان کی سچویشن کے بارے میں کے کیسے آج کل کے نوجوانوں اپنی لایف کی سچویشن کو ہینڈل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں٠
سب سے پہلے میں بات کرنا چاہتی ہو یوتھ کی روزگار کے بارے میں. حاص کر کے انڈیا کے نوجوانوں کے روزگار کے بارے میں کیوں کہ میں اسی دیش کی رہنے والی ایک بہ روزگار یوتھ ہو اور یہ صرف میری ہی بات نہیں یہ ہر اس دیش کے رہنے والے بہ روزگار یوتھ کی بات ہے.
یہ ہمارے ریش کے وہ اسٹیٹ ہیں جن میں لاکھوں بہ روزگار بچے اپنے گھروں میں بٹھ کر حود کو اور اپنی قسمت کو کوس رہے ہیں. پڑھے لکھے تو بہت ہیں لیکن انہیں روزگار نہیں ملتا ڈگرہیں تو بہت کی ہیں مگر جب باری آتی ہے ان کی ایک اچھی زندگی کی اور ان کے روزگار کی تب نہ ہی انہیں کوئی روزگار ملتا ہے اور نہ ہی ایک اچھی زندگی کی شروعات کر پاتے ہیں.
اس بہ روزگاری کی وجہ سے بچوں نے حود کو اتنا ڈپریشن میں ڈال دیا ہیں کے ان کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے پڑ رہے ہیں.
میں بات کرنا چاہتی ہوں ان والدین کے بارے میں جن کی امید ہی ان کے بچے ہوتے ہیں کئی والدین تو ایسے ہوتے ہیں جو مزروری کر کے اپنے بچے کو پڑھتے ہیں کیوں کہ ان کی امید ہی ان کے بچے پر ٹکھی ہوتی ہیں. وہ والدین جو حود کو نہ دیکھتے ہوئے اپنے بچے کی فیس وقت پر جمع کرتے ہیں اور جب باری آتی ہے ان کے کے بچے کے روزگار کی تب ان کی ساری امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں.
اور اگر بات کروں اس بچے کی تو وہ تو پہلے ہی یہ سوچ سوچ کر حود کو ڈپریشن میں ڈال دیتا ہے کے
جب اس کو پتا چلتا ہے کے اس کی پڑھائی لکھائی کسی کام کی نہیں اور اس وجہ سے یا تو وہ کوی غلط راستہ چنتا ہے یہ پھر اس کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں.
اسی بات پہ ایک شاعری ہو جائے.....
کے کتنی امید لگائے بیٹھے ہیں
کے کتنی امید لگائے بیٹھے ہیں
اگر کامیابی نہ ملی تو جان تو دینی ہی
پڑے گی
Comments
Post a Comment